سیاہ محبت کا ذکر کیا تو بات سفید
محبت تک چلی گئی، سفید محبت لکھتے ہوئے کئی مقامات آئے جہاں تشنگی سی محسوس ہوئی،
لیکن چونکہ موقع محل نہ تھا اس لئے بوجوہ اشاروں کنایوں سے کام لیا۔
محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے
ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے
ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری
سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ
جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔
صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ
صبغۃ(البقرۃ 138)
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ
تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔
آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و
اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ
اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا،
کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا
تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں
ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا
ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی
لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
خدا آسمانوں اور زمین
کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور
چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا
ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق
کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی
چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو
چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں
کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
(النور-35)
اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی
نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور
اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا
خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات،
مُشاہدات سے ماورا ہے۔
ہماری اس کائنات میں روشنی کے
ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا
روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی
سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے،
نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا
ہے۔
اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی
مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ
اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے
سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ
شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت
کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ
روشنیوں کا رنگ ہے، یہ عشقِ مجازی کا
اوّلین رنگ ہے۔
ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو
ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔
میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں
تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار
دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن
ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام و مذاہب
سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے
ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی
کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت
کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں
کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا
ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ
چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر
ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں
سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی
عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں،
حاصل کالا ہی ہوگا۔
کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا
جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
"کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا
زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے
نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے
آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا
رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع
ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور
حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف
کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی
خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے
لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو
ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان
کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف
اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے
ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی
صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا
اور بات ہے۔۔۔"
ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ
تھا کہ صرف سفید ہی خُدا کے رنگ کے لئے
واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے
دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا
رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ
قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے
کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید
دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے
ہیں،صاف شفاف اُجلے سے آئینے کی
مانند، زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی
طرح کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی
رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی
اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے
کا انعقاد کیا، اس نے رنگ ریزوں کی ان
دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں
دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی
دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق
سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی
اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے تشکیل دیئے
گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں
بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ
سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود
تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل
تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ
نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب
دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی
اپنے اند سمو لے۔
جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و
اغراض کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر
سفید رنگ اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص
ہو جاتا ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن
کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ
وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے،
تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا
سفر سفید سے ہی شروع ہو، خُدا تعالٰی کا
اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف
دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف
شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت
ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور
سُبک ہوتا ہے اور گدلا پانی بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور
اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت
زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ مشاہدے میں
یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و
غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن
شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے
اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے
جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔
القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور
کو بے رنگ جانا ہے، ہم کسی روشنی کے رنگ
کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں
لیکن نُورِ لَم یزل
کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے
پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس
کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر
جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں
اور ہر رنگ اسی کا ہے۔

No comments:
Post a Comment