Friday, 20 July 2012

سفید گُلاب



"محبت کا پہلا رنگ سفید ہوتا ہے اور اس کی علامت سفید گُلاب ہے"
سفید رنگ کوئی وُجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اس بارے میں ماہرین کا اختلاف ہے، زیادہ تر اسے ایک رنگ مانتے ہیں لیکن کچھ کے نزدیک سفید رنگ محض دیگر رنگوں کی غیر موجودگی کا نام ہے۔ یعنی کہ جہاں کوئی رنگ وجود نہ رکھتا ہو یا جہاں ہر رنگ اپنا وجود کُھو دیتا ہو وہاں سفید رنگ ظہور میں آتا ہے۔
میری ذاتی رائے میں یہ سفید رنگ ہی محبت کا سب سے سچّا رنگ ہے شاید اسی لئے جب اس جذبے کی شروعات ہوتی ہے تو مغربی ممالک کی دُلہنوں کی طرح محبت بھی سفید عروسی لباس زیب تن کئے ہوتی ہے۔ البتّہ وقت کے ساتھ ساتھ فریقین کی خواہشوں، آرزوؤں اور توقعات کے مطابق اس کی چُنری نیلی، پیلی، سرخ، گُلابی یا سیاہ رنگ میں رنگتی چلی جاتی ہے۔
میں نے سفید کو محبت کا سچّا اور اوّلین رنگ اس لئے کہا کیونکہ یہی وہ رنگ ہے جس میں کسی غرض کا کوئی چھینٹا نہیں ہوتا۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ماں اس سفید محبت کا شکار ہی تو ہوتی ہے جس کی بناء پر وہ اس گوشت کے لوتھڑے کو اپنے خونِ جگر سے سینچتی ہے۔ پہلی نظر کی سچی محبت (جس میں محبوب کا چہرہ اصل محرّک نہ ہو) اور خُدا سے بِن دیکھے کی محبت بھی کچھ کچھ اسی محبت کے زیرِ اثر آتی ہیں چہ جائیکہ ان کو کسی غرض کا تڑکہ نہ لگے کیونکہ ان دونوں مواقع پر ہم نہیں جانتے کہ جس سے ہم محبت کر رہے ہیں اس کی اصل کیا ہے؟ وہ کس گفتار و کردار کا مالک ہے؟ ہم اس کی حقیقت سے بے نیاز ہو کر اس سے محبت کر بیٹھتے ہیں۔
اس محبت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی نا پائیداری ہے۔  غرض، توقع، آرزو، خواہش، تمنّا، گُمان کا ذرّہ برابر معمولی سا دھبّہ بھی اس اُجلی، بے غرض، بے لوث، کنواری دیوی کے دامنِ عفّت پر بہت بڑا داغ دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح شیشہ اور دِل جب ایک بار ٹُوٹ جائیں تو پھر کبھی پہلے جیسے نہیں ہو سکتے، کیونکہ اگر یہ دونوں دُوبارہ جوڑ بھی دیئے جائیں تب بھی ان میں بال تو آ ہی جاتا ہے ٹھیک اسی طرح اس سفید محبت میں بھی ایک دفعہ رتّی برابر بھی ملاوٹ ہو جائے تو یہ اپنا اُجلا پَن سَدا کے لئے کُھو دیتی ہے۔
یہ وہ محبت ہوتی ہے جو سوال نہیں کرتی، جواب نہیں مانگتی، جزا نہیں چاہتی، ثواب نہیں مانگتی، اجر کی طالب نہیں، حِساب نہیں مانگتی۔

دُنیا کے دیگر مشاغل میں سیاہ اور سفید متضاد ترین چیزوں کی وضاحت کے لئے مستعمل ہیں لیکن محبت کا تو کوئی رنگ دوسرے کی ضد نہیں اسی لئے کالی محبت ہو یا سفید محبت، دونوں ایک ہی نُور کا پرتَو ہیں اور ان دونوں میں آپس میں محبت کے دیگر رنگوں سے زیادہ مماثلت ہے۔ سیاہ محبت میں بے قدری کے احساس کے زیرِ اثر یا شاید آرزوؤں کے بے جا ہجوم کی بناء پر محبوب سے مزید کوئی توقع، امّید باقی نہیں رہتی اور سفید محبت  میں تو توقع اور امّید کی پیدائش ہی سِرے سے شجرِ ممنوعہ کی طرح
ہوتی ہے۔ نیلی، پیلی، سرخ، گُلابی  محبتوں میں تو انسان کو بہت حد تک آزادی میسر ہوتی ہے لیکن یہ سفید و سیاہ محبتیں مکمل طور پر انسان کو رُوح تک ڈھانپے ہوتی ہیں۔
ان دونوں میں فرق بس اتنا سا ہے کہ کالا رنگ جب چڑھ جائے تو دھو دھو کر، رو رو کر اُترتے نہیں اُترتا اور سفید رنگ اوّل تو چڑھائے نہیں چڑھتا اور بہ امرِ مجبوری اگر کسی کو چڑھ جائے تو بھی اس پر کسی خواہش، آرزو، تمنّا، توقع، غرض، مقصد، بد گُمانی، شک وغیرہ کی ایک بُوند برسنے کی دیر ہے اور یہ سفید رنگ اپنا بانکپن کُھو دیتا ہے، یہ پھر نیلا، پیلا، سرخ، گُلابی یا پھر سیاہ پڑ جاتا ہے لیکن سفید نہیں رہتا نہ کبھی دُوبارہ سفید ہو پاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment