Friday, 20 July 2012

سیاہ گُلاب



کیا آپ نے کبھی محبت کو دیکھا ہے؟ سُنا ہے؟ چُھوا ہے؟ چکّھا ہے؟ سُونگھا ہے؟دیکھا ہوگا، سُنا ہوگا، چُھوا ہوگا، چکّھا ہوگا، سُونگھا ہوگا۔۔۔لیکن ہر ایک کو یہ الگ ہی شبیہہ میں نظر آتی ہے، ہر ایک کو ایک الگ راگ کی صورت سُنائی دیتی ہے، یہ ہر شخص کے لئے ایک الگ لَمس، الگ ذائقہ اور الگ مہک رکھتی ہے۔اگر کسی ریاضی دان سے پُوچھیں تو وہ محبت کو ہندسوں، کُلیّوں کی مدد سے بیان کرے گا، کوئی کیمیا دان مختلف عناصر، مرکبات اور تجربات و مشاہدات کی رُو سے اسے واضح کرے گا، کوئی طبیب محبت کو جسم کے مختلف اعضاء، بیماریوں اور ان کی دواؤں کی صورت میں مرتّب کرتا نظر آئے گا۔ مصوّر محبت کو مختلف رنگوں سے بیان کرے گا تولکّھاری کو یہ مختلف جملوں، کہانیوں میں دکھائی دے گی، اُستاد کو مختلف اسباق میں نظر آئے گی تو کسی موچی کے لئے یہ جوتوںمیں رُونُما ہوگی۔ حاکم، سیاستدان، منتظم، جج، وکیل، لوہار، کمہار، کسان، لکڑہارا، گدڑیا، گورکن وغیرہ وغیرہ، ان سب کی محبتیں اپنے اپنے رنگ لئے ہوتی ہیں۔عمومی طور پر محبت کا سب سے بڑا استعارہ سرخ گلاب سمجھا جاتا ہے۔ یعنی زیادہ تر لوگوں کے لئے محبت ایک شوخ رنگ کی حامِل، دِل لُبھاتی خوشبو سے مہکتی، نرم و نازُک سی لیکن کچھ خستہ سے کانٹوں سے مزیّن ہوتی ہے۔ اس سرخ گلابی محبت کے کانٹے  بھی میٹھی سی چُبھن کے ساتھ چُبھتے ہیں۔ اس محبت سے تو سبھی واقف ہیں اور بہت سے لوگ اس محبت کی لالی میں لعل ہوئے۔لیکن محبت کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کالا گُلاب دیکھا ہے؟ یہ بھی محبت ہی کا ایک ذائقہ ہے لیکن تھوڑا زیادہ تلخ اور مُنفرد سا۔محبت کے سرخ گُلاب کو جب مسلسل بد گُمانیوں، بد لحاظیوں کے اندھیروں میں رکھا جاتا ہے اور جب اسے امّید اور وفا کے پانی سے سینچنا بند کردیا جاتا ہے تو ہ سیاہ پڑ جاتا ہے جیسے لہو بھی تو سرخ ہوتا ہے جو بہہ نکلے تو کچھ دیر بعدجم کر سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس سیاہ گلاب کی نرمی کرختگی میں تبدیل ہو گئی ہوتی ہے، مہک دل نشین تو ہوتی ہے لیکن ایک عجیب سی سوگواری لئے۔ اس کے کانٹے بھی اتنے سخت ہوتے ہیں کہ جیسے لوہے کے بنے ہوں، جب چُبھتے ہیں تو رُوح تک چھلنی کر دیتے ہیں۔اس کالی محبت کی سیاہی میں لوگوں کے بخت بھی سیاہ ہوجاتے ہیں۔ اس محبت کا ہر دِن عاشورہ ہوتاہے، ہر پہر ماتمی دُھنیں بجتی رہتی ہیں جن پر نا آسودہ خواہشوں کی نعشیں رقص کر تی رہتی ہیں۔سرخ گُلابی محبت سے کنارہ کش ہونا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں زیادہ گہری نہیں ہوتیں  بس دِل تک پیوست ہوتی ہیں لیکن یہ کالی محبت، اس کی جڑیں تو نفرت کی کھاد کی آمیزش سے زہر میں بُجھی ہوتی ہیں اور پورے جسم میں ایک کینسر کی مانند پھیلی ہوتی ہیں اور رُوح تک کو جکڑے ہوتی ہیں۔ یہ گُلِ سیاہ جس سر زمین میں اُگتے ہیں اُس کا سارا پانی چُوس کر اسے ایک پیاسے صحرا میں تبدیل کر دیتے ہیں، اس کالے گُلاب کے ڈسے ہوئے شخص کو ہر چہرے پر سیاہی دِکھتی ہے،ہر دامن داغدار نظر آتا ہے۔گُلابی محبت انسان کو فضاؤں میں اڑان کی طاقت دیتی ہے تو یہ کالی محبت اسے دشتِ تنہائی کا مُسافر بنادیتی ہے۔ اس کالی محبت کے کالے جادُو کا کوئی توڑ نہیں، اس کالے طاعون کا کوئی علاج نہیں، اس کالے ناگ کے زہر کا کوئی تریاق نہیں۔اس روگ کا روگی تو شاید گور میں ہی امان پائے۔ 



No comments:

Post a Comment