Friday, 20 July 2012

تیسرا رنگ


سیاہ محبت کا ذکر کیا تو بات سفید محبت تک چلی گئی، سفید محبت لکھتے ہوئے کئی مقامات آئے جہاں تشنگی سی محسوس ہوئی، لیکن چونکہ موقع محل نہ تھا اس لئے بوجوہ اشاروں کنایوں سے کام لیا۔
 محبت کے دیگر رنگ جو بیان کئے وہ گرچہ افلاک سے ملاتے ہیں مگر ارضی ہیں لیکن آج جس رنگ کا ذکر کررہا ہوں اس کا تعلق عرشِ بریں سے ہے اور اس رنگ کا بیان کرنا انسانی بساط و دسترس سے ماورا ہے، میں دِل پہ اُتری سوچوں کو یہ سوچ کر صفحوں پر اُتار رہا ہوں کہ شاید کسی صاحبِ رنگ و نظر کی نظر پڑ جائے اور اُن کی نظروں میں آ کر میں بھی رنگا جاؤں۔

صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ(البقرۃ 138)
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا۔

آج ہم سب سے بلند وبالا ارفع و اعلٰی رنگ یعنی اللہ کے رنگ کی باتیں کریں گے گو کہ ہم یہ تو نہیں جان پائیں گے کہ اللہ کا رنگ ہے کیا۔ ویسے بھی ہر بات جاننا، جاننے کی کھوج کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ باتیں بس ماننے کے لئے ہوتی ہیں۔
اس عالمِ رنگ و بُو میں خدا تعالٰی نے اَن گنت رنگ نازل فرمائے ہیں، کیا خُدا کا رنگ بھی اس کائنات میں کہیں ظاہر ہے یا وہ بھی ذاتِ باری تعالٰی کی طرح پوشیدہ و پنہاں ہے۔ کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سفید رنگ مجازی محبت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق کا رنگ ہے، کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ خُدا نُور ہے اور نُور سفید رنگ کا ہوتا ہے۔

جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے:
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
(النور-35)

اس آیتِ مُبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو نُور ارشاد فرمایا ہے، لیکن اب بھی مجھے ابہام ہے کہ یہاں جس نُور اور روشنی کا ذکر فرمایا گیاہے کیا وہ ہماری زمینی، کائناتی روشنی کی مانند ہے یا خدا کا نُور، اس کی روشنی بھی اس ذاتِ لا ریب کی طرح ہماری سوچوں، تصورات، خیالات، مُشاہدات سے ماورا ہے۔
ہماری اس کائنات میں روشنی کے ذیادہ تر مآخذ پیلاہٹ مائل روشنی کا اخراج کرتے ہیں اور چند ایک سفید، دودھیا روشنی کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ پیلی روشنی میں جلالی عنصر نمایاں ہے اور چاندنی کی سفید روشنی جمالی عنصر لئے ہوتی ہے
اسی لئے جب روشنی کا ذکر ہوتا ہے، نُور کی بات کی جاتی ہے تو لا محالہ ہمارا تصور اسے سفید روشنی سے منسلک کردیتا ہے۔
اسی لئے جب سے تاریخِ انسانی مرتّب ہونا شروع ہوئی، دُنیا کے بیشتر مقامات پرسیاہی کو طاغوتی طاقتوں کا استعارہ اور سفیدی کو نُور کی علامت سمجھا گیا۔ گو کہ بیشتر افریقی اور ایشیائی مؤرخین اسے سفید چمڑی والی مغربی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاہ رنگ شیطان کے لئے مخصوص نہیں۔ لیکن آج بھی اکثریت   کا ماننا ہے کہ سفید رنگ ہی خُدا کا رنگ ہے کیونکہ یہ خالص ترین ہے، یہ روشنیوں کا رنگ ہے،  یہ عشقِ مجازی کا اوّلین رنگ ہے۔
ان سب باتوں کے باعث ہم سفید کو ہی خُدا کا رنگ قرار دے دیتے ہیں اور دیگر رنگوں کو کبھی زیرِ غور بھی نہیں لاتے۔ میں ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا، اگر ہم اقوامِ عالم کا مطالعہ کریں تو دُنیا کے بیشتر مقامات اور اقوام و مذاہبِ عالم سیاہ رنگ کو گناہ کا رنگ قرار دیتی ہیں، اسے رَد ہوؤں کے سردار یعنی شیطان الرجیم سے منسوب کیا جاتا ہےلیکن ہندوستان اور افریقہ کی کئی اقوام  و مذاہب سیاہ رنگ کو خُدا کا رنگ قرار دیتی ہیں اور اسے سب رنگوں سے برتر مانتی ہیں۔
سفید رنگ تمام رنگوں کے انضمام سے ظہور پذیر ہوتا ہے اس کے برعکس سیاہ رنگ تمام رنگوں کےناپید ہونے  کا نام ہے، (نوٹ: پچھلے مضامین میں اپنی کم علمی کی بناء پر یہ بات بالکل اُلٹ بیان ہوگئی لیکن تصحیح فرمالیں کہ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب سب رنگوں کو ملایا جاتا ہے تو سفید رنگ حاصل ہوتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہیں ہوتا تو سیاہ رنگ ظہور میں آتا ہے، غلطی کے لئےمعذرت خواہ ہوں)
 ایک ایسا رنگ جس میں ہر رنگ اپنا آپ کھو دیتا ہے، سفید رنگ پر کسی بھی رنگ کو چڑھانا بہت آسان ہے لیکن سیاہ رنگ پر کوئی اور رنگ چڑھے یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین امر ہے۔
سفید رنگ کے خالص ہونے کی بناء پر ہم اسے خدا کے اخلاص سے منسلک کر دیتے ہیں، لیکن اپنی تمام مخلوق کو اپنے میں سمولینا بھی تو خدا کی صفت ہے جو کہ سیاہ رنگ کا وصف ہے، جس طرح صفر سے کسی بھی عدد کو ضرب دینے پر صفر ہی حاصل ہوتا ہے اسی طرح کالے سے کسی بھی رنگ کو ضرب دیں، حاصل کالا ہی ہوگا۔
کالے رنگ کے بارے میں میرے بابا جی اپنی کتاب پِیا رنگ کالا میں لکھتے ہیں:
"کالی مرچ، کالا نمک، کالا گُڑ، کالے چنے، کالا زیتون، کالی کلونجی، کالا گلاب اور مشکی گھوڑا مجھے بَھلے لگتے ہیں۔ کالے رنگ سے نسبتِ خاص رکھنے والے کے لئے رُوحانی اور باطنی علوم و اسرار جاننے سیکھنے کے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس پہننے والا شیطان کی دستبرد سے بچا رہتا ہے۔ اُس میں عِجز، انکساری، خاکساری اور درویشانہ خُو، خصلت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ انسان تو انسان، چرند پرند، چوپائے اور حشرات الارض تک احترام، عزت اور حفاظت کرتے ہیں۔ سیاہ لباس پہننے والا اللہ کے خوف کو محسوس کرتا ہے، عبادت و ریاضت کی جانب رغبت حاصل کرتا ہے۔ یہ رنگ اسے اپنی خواہشات اور سِفلی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے لیکن اس رنگ کے کچھ مضرّات بھی ہیں۔ قدرت نے اگر اس کے نقیض پیدا نہ کئے ہوتے تو ہر ہما شما اسے اپنا لیتا۔ آپ نے سُنا، دیکھا ہوگا کہ بہت سے گھرانوں میں خاندان کے بڑے بزرگوں کی جانب سے کالا رنگ پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے صرف اہلِ تشیع کا مخصوص رنگ سمجھ کر محض ضد اور جاہلیت کی بناء پہ اس سے کَد کھاتے ہیں، ویسے بِلا سوچے سمجھے ہر کسی کو اسے اپنانا بھی نہیں چاہیئے تا آنکہ کوئی صاحبِ انگ رنگ، اس رنگ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دے، ویسے شوقیہ طور پر پہننا اور بات ہے۔۔۔"

ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صرف سفید ہی  خُدا کے رنگ کے لئے واحد امیدوار نہیں۔سفید کے ساتھ ساتھ سیاہ اوردیگر لا تعداد رنگ اس اعزاز کے دعویدار ہیں۔ زرد، نارنجی، سبز، سُرخ، طلائی، نقرئی، وغیرہ وغیرہ۔
سفید و سیاہ کے علاوہ ایک تیسرا رنگ بھی ہے ۔ ۔ ۔ "بے رنگ"۔۔۔
بعض لوگ خُدا کی روشنی کو قوسِ قزح کی سی روشنی بھی قراردیتے ہیں، ایک ایسی چمک جس میں ہر رنگ موجود ہے، ہر بندے کے لئے اس کے مزاج و ضروریات کے موافق ایک رنگ، جو تَن اُجلا ہو اسے یہ روشنی سفید دکھائی دے، جو مَن جَلا ہو اسے سیاہ نظر آئے۔
ہم اسے بے رنگ روشنی بھی کہہ سکتے ہیں،صاف شفاف اُجلے سے  آئینے کی مانند،  زندگی کی بُنیاد خالص پانی کی طرح  کہ جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، ارضی رنگوں میں کسی حد تک نقرئی رنگ کے مماثل۔
حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے چینی اور رُومی رنگسازوں کو بُلایا اور انکی کاریگری کا امتحان لینے کے لئے ایک مقابلے کا انعقاد کیا، اس نے  رنگ ریزوں کی ان دونوں جماعتوں کو ایک دیوار پر اپنی مہارت کا جلوہ دکھانے کا حکم دیا اور ان دونوں دیواروں کے بیچ ایک پردہ لگوادیا۔
دونوں جماعتیں پسِ پردہ دی گئی دیوار پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہو گئیں، جب وقتِ مقررہ پر پہلے رومیوں کی تخلیق سے پردہ ہٹایا گیا تو لوگ عش عش کر اٹھے، بے شمار خوش نما رنگوں کی ایک بہار تھی اور نہایت ہی دلکش بیل بُوٹے  تشکیل دیئے گئے تھے، عوام نے سوچا کہ بہت ہی مشکل ہے کہ چینی رنگ ریز اس شاہکار کو زیر کرسکیں بہر حال جب چینیوں کی تخلیق پر سے پردہ ہٹایا گیا تو جیسے پورے دربار کو سانپ سونگھ گیا، چینیوں کی دیوار پر بھی ہو بہو رومیوں کا رنگ، ان کے نقش و نگار موجود تھے، لوگ پریشان تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا، چینیوں نے پردے کے پیچھے سے کس طرح نقل تیار کرلی، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بولے کہ در اصل ہم نے اپنی دیوار پر کوئی رنگ نہیں بھرا کوئی نقش نہیں بنایا، ہم نے تو بس اسے آئینے کی طرح صیقل کردیا تاکہ جب دونوں دیواروں کے بیچ سے پردہ ہٹایا جائے تو ہماری دیوار رُومیوں کی مہارت کو بھی اپنے اند سمو لے۔
جب انسان بھی اپنے دل کو گناہوں و اغراض  کی سیاہی سے بچا کر، اسے مٹا کر سفید رنگ  اختیار کر لیتا ہے تو بہت خالص ہو جاتا ہے لیکن جب وہ اس سفید رنگ کو بھی رگڑ رگڑ کر صاف کرتا ہے، اپنے مَن کومانجھ مانجھ کر آئینے کی مثل صیقل کر لیتا ہے ، بے رنگ کرلیتا ہے تو سمجھیں کہ وہ عشقِ حقیقی کی طرف سفر شروع کر لیتا ہے، سفید محبت کا اوّلین اور خالص رنگ ہے، تو سیاہ رد ہوئی، لاحاصل، ادھوری و تشنہ محبت کی علامت۔ ضروری نہیں کہ بے رنگ کا سفر سفید سے ہی شروع ہو،  خُدا تعالٰی کا اذن ہو تو سیاہی سے بھی انوار پُھوٹتے ہیں۔
یہ مختلف رنگوں کی محبتیں مختلف دریاؤں، ندی، نالوں کی مانند ہیں اور عشقِ حقیقی گہرا سمندر۔ دریا بھلے وہ صاف شفاف، اجلے میٹھے، خالص پانی کا ہو یا غلاظتوں، آلائشوں سے گدلایا ہوا ہو۔ اگر سمت ٹھیک ہو تو گرنا تو سمندر میں ہی ہوتا ہے، البتّہ خالص پانی کا سفر ذرا تیزاور سُبک  ہوتا ہے اور گدلا پانی  بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے اور اسی بناء پر خالص پانی کے سمندر تک پہنچ جانے کے امکانات گدلے پانی کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی دفعہ  مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ گدلا پانی تو آہستہ آہستہ عجز و انکساری سے چلتا، اپنی آلائشوں و غلاظتوں پر کُڑھتا واصلِ سمندر ہوکر بارش کی بوندوں سا پاک صاف ہوجاتا ہے لیکن شفاف پانی بجائے اس کے کہ سمندر میں ڈُوبتا اسے  اپنی صفائی و شفافی کا غرور لے ڈُوبا اور وہ راستے میں ہی کہیں رُک کر پہلے جھیل اور پھر کھڑے کھڑے گندے جوہڑ میں تبدیل ہوا۔

القصہ مختصر میں نے خُدا کے نُور کو بے رنگ جانا ہے،  ہم کسی روشنی کے رنگ کا اندازہ اس کے مآخذ کو دیکھ کر لگاتے ہیں  لیکن نُورِ لَم یزل
کا منبع و مآخذ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، میرے جیسے عام عوام کے لئے تو کائنات کا ہر ذرّہ خدائی ذرّہ ہے اور اس کائنات کے چپّے چپّے، ذرّے ذرّے سے نُور کا نکاس و انعکاس ہو رہا ہے۔
جس طرح خُدا کہیں نہیں ہے اور ہر جگہ ہے، وہ اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا اور ہر چیز میں موجود ہے
اسی طرح اس ذات کا کوئی رنگ نہیں اور ہر رنگ اسی کا ہے۔

سفید گُلاب



"محبت کا پہلا رنگ سفید ہوتا ہے اور اس کی علامت سفید گُلاب ہے"
سفید رنگ کوئی وُجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اس بارے میں ماہرین کا اختلاف ہے، زیادہ تر اسے ایک رنگ مانتے ہیں لیکن کچھ کے نزدیک سفید رنگ محض دیگر رنگوں کی غیر موجودگی کا نام ہے۔ یعنی کہ جہاں کوئی رنگ وجود نہ رکھتا ہو یا جہاں ہر رنگ اپنا وجود کُھو دیتا ہو وہاں سفید رنگ ظہور میں آتا ہے۔
میری ذاتی رائے میں یہ سفید رنگ ہی محبت کا سب سے سچّا رنگ ہے شاید اسی لئے جب اس جذبے کی شروعات ہوتی ہے تو مغربی ممالک کی دُلہنوں کی طرح محبت بھی سفید عروسی لباس زیب تن کئے ہوتی ہے۔ البتّہ وقت کے ساتھ ساتھ فریقین کی خواہشوں، آرزوؤں اور توقعات کے مطابق اس کی چُنری نیلی، پیلی، سرخ، گُلابی یا سیاہ رنگ میں رنگتی چلی جاتی ہے۔
میں نے سفید کو محبت کا سچّا اور اوّلین رنگ اس لئے کہا کیونکہ یہی وہ رنگ ہے جس میں کسی غرض کا کوئی چھینٹا نہیں ہوتا۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ماں اس سفید محبت کا شکار ہی تو ہوتی ہے جس کی بناء پر وہ اس گوشت کے لوتھڑے کو اپنے خونِ جگر سے سینچتی ہے۔ پہلی نظر کی سچی محبت (جس میں محبوب کا چہرہ اصل محرّک نہ ہو) اور خُدا سے بِن دیکھے کی محبت بھی کچھ کچھ اسی محبت کے زیرِ اثر آتی ہیں چہ جائیکہ ان کو کسی غرض کا تڑکہ نہ لگے کیونکہ ان دونوں مواقع پر ہم نہیں جانتے کہ جس سے ہم محبت کر رہے ہیں اس کی اصل کیا ہے؟ وہ کس گفتار و کردار کا مالک ہے؟ ہم اس کی حقیقت سے بے نیاز ہو کر اس سے محبت کر بیٹھتے ہیں۔
اس محبت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی نا پائیداری ہے۔  غرض، توقع، آرزو، خواہش، تمنّا، گُمان کا ذرّہ برابر معمولی سا دھبّہ بھی اس اُجلی، بے غرض، بے لوث، کنواری دیوی کے دامنِ عفّت پر بہت بڑا داغ دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح شیشہ اور دِل جب ایک بار ٹُوٹ جائیں تو پھر کبھی پہلے جیسے نہیں ہو سکتے، کیونکہ اگر یہ دونوں دُوبارہ جوڑ بھی دیئے جائیں تب بھی ان میں بال تو آ ہی جاتا ہے ٹھیک اسی طرح اس سفید محبت میں بھی ایک دفعہ رتّی برابر بھی ملاوٹ ہو جائے تو یہ اپنا اُجلا پَن سَدا کے لئے کُھو دیتی ہے۔
یہ وہ محبت ہوتی ہے جو سوال نہیں کرتی، جواب نہیں مانگتی، جزا نہیں چاہتی، ثواب نہیں مانگتی، اجر کی طالب نہیں، حِساب نہیں مانگتی۔

دُنیا کے دیگر مشاغل میں سیاہ اور سفید متضاد ترین چیزوں کی وضاحت کے لئے مستعمل ہیں لیکن محبت کا تو کوئی رنگ دوسرے کی ضد نہیں اسی لئے کالی محبت ہو یا سفید محبت، دونوں ایک ہی نُور کا پرتَو ہیں اور ان دونوں میں آپس میں محبت کے دیگر رنگوں سے زیادہ مماثلت ہے۔ سیاہ محبت میں بے قدری کے احساس کے زیرِ اثر یا شاید آرزوؤں کے بے جا ہجوم کی بناء پر محبوب سے مزید کوئی توقع، امّید باقی نہیں رہتی اور سفید محبت  میں تو توقع اور امّید کی پیدائش ہی سِرے سے شجرِ ممنوعہ کی طرح
ہوتی ہے۔ نیلی، پیلی، سرخ، گُلابی  محبتوں میں تو انسان کو بہت حد تک آزادی میسر ہوتی ہے لیکن یہ سفید و سیاہ محبتیں مکمل طور پر انسان کو رُوح تک ڈھانپے ہوتی ہیں۔
ان دونوں میں فرق بس اتنا سا ہے کہ کالا رنگ جب چڑھ جائے تو دھو دھو کر، رو رو کر اُترتے نہیں اُترتا اور سفید رنگ اوّل تو چڑھائے نہیں چڑھتا اور بہ امرِ مجبوری اگر کسی کو چڑھ جائے تو بھی اس پر کسی خواہش، آرزو، تمنّا، توقع، غرض، مقصد، بد گُمانی، شک وغیرہ کی ایک بُوند برسنے کی دیر ہے اور یہ سفید رنگ اپنا بانکپن کُھو دیتا ہے، یہ پھر نیلا، پیلا، سرخ، گُلابی یا پھر سیاہ پڑ جاتا ہے لیکن سفید نہیں رہتا نہ کبھی دُوبارہ سفید ہو پاتا ہے۔

سیاہ گُلاب



کیا آپ نے کبھی محبت کو دیکھا ہے؟ سُنا ہے؟ چُھوا ہے؟ چکّھا ہے؟ سُونگھا ہے؟دیکھا ہوگا، سُنا ہوگا، چُھوا ہوگا، چکّھا ہوگا، سُونگھا ہوگا۔۔۔لیکن ہر ایک کو یہ الگ ہی شبیہہ میں نظر آتی ہے، ہر ایک کو ایک الگ راگ کی صورت سُنائی دیتی ہے، یہ ہر شخص کے لئے ایک الگ لَمس، الگ ذائقہ اور الگ مہک رکھتی ہے۔اگر کسی ریاضی دان سے پُوچھیں تو وہ محبت کو ہندسوں، کُلیّوں کی مدد سے بیان کرے گا، کوئی کیمیا دان مختلف عناصر، مرکبات اور تجربات و مشاہدات کی رُو سے اسے واضح کرے گا، کوئی طبیب محبت کو جسم کے مختلف اعضاء، بیماریوں اور ان کی دواؤں کی صورت میں مرتّب کرتا نظر آئے گا۔ مصوّر محبت کو مختلف رنگوں سے بیان کرے گا تولکّھاری کو یہ مختلف جملوں، کہانیوں میں دکھائی دے گی، اُستاد کو مختلف اسباق میں نظر آئے گی تو کسی موچی کے لئے یہ جوتوںمیں رُونُما ہوگی۔ حاکم، سیاستدان، منتظم، جج، وکیل، لوہار، کمہار، کسان، لکڑہارا، گدڑیا، گورکن وغیرہ وغیرہ، ان سب کی محبتیں اپنے اپنے رنگ لئے ہوتی ہیں۔عمومی طور پر محبت کا سب سے بڑا استعارہ سرخ گلاب سمجھا جاتا ہے۔ یعنی زیادہ تر لوگوں کے لئے محبت ایک شوخ رنگ کی حامِل، دِل لُبھاتی خوشبو سے مہکتی، نرم و نازُک سی لیکن کچھ خستہ سے کانٹوں سے مزیّن ہوتی ہے۔ اس سرخ گلابی محبت کے کانٹے  بھی میٹھی سی چُبھن کے ساتھ چُبھتے ہیں۔ اس محبت سے تو سبھی واقف ہیں اور بہت سے لوگ اس محبت کی لالی میں لعل ہوئے۔لیکن محبت کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کالا گُلاب دیکھا ہے؟ یہ بھی محبت ہی کا ایک ذائقہ ہے لیکن تھوڑا زیادہ تلخ اور مُنفرد سا۔محبت کے سرخ گُلاب کو جب مسلسل بد گُمانیوں، بد لحاظیوں کے اندھیروں میں رکھا جاتا ہے اور جب اسے امّید اور وفا کے پانی سے سینچنا بند کردیا جاتا ہے تو ہ سیاہ پڑ جاتا ہے جیسے لہو بھی تو سرخ ہوتا ہے جو بہہ نکلے تو کچھ دیر بعدجم کر سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس سیاہ گلاب کی نرمی کرختگی میں تبدیل ہو گئی ہوتی ہے، مہک دل نشین تو ہوتی ہے لیکن ایک عجیب سی سوگواری لئے۔ اس کے کانٹے بھی اتنے سخت ہوتے ہیں کہ جیسے لوہے کے بنے ہوں، جب چُبھتے ہیں تو رُوح تک چھلنی کر دیتے ہیں۔اس کالی محبت کی سیاہی میں لوگوں کے بخت بھی سیاہ ہوجاتے ہیں۔ اس محبت کا ہر دِن عاشورہ ہوتاہے، ہر پہر ماتمی دُھنیں بجتی رہتی ہیں جن پر نا آسودہ خواہشوں کی نعشیں رقص کر تی رہتی ہیں۔سرخ گُلابی محبت سے کنارہ کش ہونا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں زیادہ گہری نہیں ہوتیں  بس دِل تک پیوست ہوتی ہیں لیکن یہ کالی محبت، اس کی جڑیں تو نفرت کی کھاد کی آمیزش سے زہر میں بُجھی ہوتی ہیں اور پورے جسم میں ایک کینسر کی مانند پھیلی ہوتی ہیں اور رُوح تک کو جکڑے ہوتی ہیں۔ یہ گُلِ سیاہ جس سر زمین میں اُگتے ہیں اُس کا سارا پانی چُوس کر اسے ایک پیاسے صحرا میں تبدیل کر دیتے ہیں، اس کالے گُلاب کے ڈسے ہوئے شخص کو ہر چہرے پر سیاہی دِکھتی ہے،ہر دامن داغدار نظر آتا ہے۔گُلابی محبت انسان کو فضاؤں میں اڑان کی طاقت دیتی ہے تو یہ کالی محبت اسے دشتِ تنہائی کا مُسافر بنادیتی ہے۔ اس کالی محبت کے کالے جادُو کا کوئی توڑ نہیں، اس کالے طاعون کا کوئی علاج نہیں، اس کالے ناگ کے زہر کا کوئی تریاق نہیں۔اس روگ کا روگی تو شاید گور میں ہی امان پائے۔