طوطی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک مُلک پر
ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ تھا تو کسی مُلک پر تو حکومت کرتا ہی ہوگا۔ ہر ملک میں کوئی بادشاہ ہو یہ ضروری نہیں لیکن
ہر بادشاہ کے زیرِ نگیں کوئی نہ کوئی ملک ضرور ہوتا ہے۔ شاہِ بے ملک تاریخ میں شاذ
ہی گذرے ہیں۔ باا لفرض اگر کسی بادشاہ کا ملک یا اس کی قوم اپنا وجود کُھو دے تو
اس کی بادشاہت بھی فنا ہوجاتی ہے۔
تخلیقِ کائنات کی ایک وجہ یہ بھی
بتائی گئی ہے کہ خالقِ کائنات کو اپنی بادشاہت، قُدرت اور طاقت کا اظہار مقصود
تھا۔ لیکن احکم الحاکمین کی بادشاہت اس مثال سے مبرّا ہے کہ اس کی بادشاہت عوام
اور رعایا کے وجود کی محتاج نہیں۔ جب ممالک نہیں تھے وہ اس وقت بھی مالک الملک تھا
اور جب تمام مخلوقات و رعیّت فنا ہوجائیگی اس کی حاکمیت اور اس کا اقتدار تب بھی
باقی رہے گا۔
خیر جس بادشاہ کی یہ کہانی ہے وہ
نہایت ہی رحمدل، نیک طینت اور عادل تھا۔ اس نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنے باپ،
بھائیوں اور دیگر قریبی رشتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا یا اپنے اقتدار کو مستحکم و
برقرار رکھنے کے لئے عوام و خواص کے ساتھ کیا معاملات اختیار کئے یہ سب ثانوی
باتیں ہیں چونکہ اقتدار اس کے پاس تھا لہٰذا کہانی میں وہ نیک، عادل، رحم دل ہی
لکھا جائے گا۔ اس کی زنجیرِ عدل کے گُن گائے جائینگے، عوام کو اس کے دورِ حکومت
میں خوشحال، پُر سکون اور خوش و خرم ہی بتایا جائیگاحالانکہ کیسی غیر منطقی سی بات
ہے کہ ایک شخص کے خزانے زر و جواہر سے لبریز ہوں، کنیزوں اور غلاموں کی ایک فوجِ
ظفر موج اس کا دل لبھانے کے لئے حرم سرا میں موجود ہو اور بیک وقت اس کے عوام بھی
چین کی بانسری بجاتے ہوں۔ شاہوں کے خزانوں میں موجود جواہرات و نوادرات عوام ہی کے
خونِ جگر اور پسینےسے کشید کئے جاتے ہیں، ہر ہر موتی کئی کئی غرباء کے حلق سے
چھینے گئے لقموں کا مرہونِ منّت ہوتا ہے، دربار میں خدمت پر معمور غلام اور دل
رجھانے کے لئے متعین کنیزیں اپنی مرضی و منشا سے تو اپنی آزادی مقفل نہیں کرتے۔ گو
کہ انسانی معاشروں میں بھی چند ایک مقامات و مواقع کے علاوہ زیادہ تر جنگل ہی کا
قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس لیکن ہم چونکہ اشرف المخلوقات ہیں اس
لئے اس قانون پر عمل کے معاملے میں بھی امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ یہ انسانی
جنگلوں کا ہی وصف ہے کہ جہاں ایک چوہا اس بناء پر کہ وہ ایک صاحبِ زر کے گھر منہ
میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوا، اپنے پالتو بھیڑیوں کی مدد سے کسی شیر کی عصمت و
آبرو پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ عجیب مضحکہ خیز صورتحال ہے نا کہ وہ بھیڑیے جو چوہے
کو اپنی چُٹکی میں مَسل سکتے ہیں چند سکّوں کے عوض اس کے سامنے دُم ہِلاتے پائے
جاتے ہیں، اس کی خوشنودی کے لئے اپنے ہی ہم جنسوں کو بھنبھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ کتنے عقلمند
ہیں ہم انسان جو ایک اپنے سے بھی کمزور انسان کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہوتے ہیں ، مظلوموں
اور مجبوروں پر ظلم و جبرکے پہاڑ توڑ رہے ہوتے ہیں صرف اس لالچ میں کہ ہمارا مالک
اپنے وسیع و عریض دستر خوان سے جو اسے وراثت میں ملا ہے چند لقمے اور نوالے ہمارے منہ میں بھی ڈال دے گا، اگر ہم
اشرف المخلوقات نہ ہوتے اور دیگر مخلوقات کی طرح بےوقوف، بے عقل، بے شعور ہوتے تو
شاید اپنی لاٹھیوں، تلواروں اور بندوقوں کا رخ اپنی جیسی عام عوام کی طرف کرنے کے
بجائے اپنے بادشاہوں، مہا راجاؤں، چوہدریوں، وڈیروں، سرداروں کی طرف کردیتے اور
خیرات اور حقارت سے مِلے چند لقموں کے بجائے پُورا دستر خوان لُوٹ لیتے اور آپس
میں تقسیم کرلیتے، گو کہ اس طریقے میں بھی کمزور پامال ہوتے ہیں کیونکہ یہی قانونِ
فطرت ہے، ازل سے قاضیِ تقدیر نے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات صادر فرمائی ہے۔
لیکن پھر بھی عوام کی عوام پر حکومت میں اتنے ظلم نہیں کئے جاتے جو خواص کا شیوہ و
خاصہ ہیں۔
کہانی کی طرف واپس آتے ہیں،
بادشاہ اور اس کی رعایا مثالی زندگیاں
گذار رہے تھے۔ مطمئن، آسودہ، پُر امن، ہر خوف سے بے نیاز گویا وہ سب جنتِ ارضی کے
باسی تھے لیکن ارض پر جنت کہاں بسائی جاسکتی ہے، یہاں کوئی خوشی دائمی نہیں، ہر
مُسکراتا چہرہ کبھی نہ کبھی اپنی مُسکراہٹ کا خراج سسکیوں کی صورت ضرور ادا کرتا
ہے۔ یہ دنیا فانی ہے اور اس پر حاصل ہوئی نعمتیں بھی فنا ہوجانی ہیں تو ہوا کچھ
یوں کہ بادشاہ کی اکلوتی، منّتوں مرادوں سے مانگی ہوئی بیٹی جو بہت ہی خوبصورت تھی
گویا جنتِ افلاک کی کوئی حور اپسرا ہو، ملکوتی حسن کی مالک، یکتا ، بے نظیر و بے
مثال۔ شہزادی ہونا بھی مملکت کی خوبصورت ترین دوشیزہ ہونے کی سند و علامت ہے۔
غریبوں کے آنگن میں کِھلنے والی کلیاں تو فاقوں کی نذر ہوجاتی ہیں اور جو چند ایک
سخت جان اگر موسمِ بہار تک پہنچ بھی جائیں تو ان کے حسنِ سوگوار کی چاندنی اہلِ ثروت کی ہوس ناک نگاہوں سے جھلس
کر ماند پڑ جاتی ہے۔ حسین ہونا غرباء کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں کہ یہ اُنکی
متاعِ واحد یعنی عزت و غیرت کو بھی لے ڈُوبتا ہے۔ حسن تو بس اُمراء کو زیب دیتا ہے
جو اس کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اس سے محظوظ بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ پورے
ملک میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ کبھی شہزادی کے اُجلے بدن پر کبھی اپنی میلی
نظر کا بار ڈال سکے، اُٹھنے والی نگاہیں نِکال لی جاتی تھیں لیکن ایک دن شہزادی
جُھکی نظروں کی بَد نظری کا شکار ہو گئی، ایک جادوگر اپنے جادوئی قالین پر محوِ
پرواز تھا کہ اس کی نگاہ نیچے گذرتے شاہی قافلے پر پڑی، نیچے شہزادی مطمئن تھی کہ
سب نگاہیں جُھکی ہوئی ہیں لہٰذا وہ بڑے اطمینان سے بے حجابانہ چہل قدمی میں مشغول
تھی اور ادھر ہواؤں میں اُڑتے جادوگر پر شہزادی کے حسن کا جادو چل گیا تھا۔جادوگر
کو قدرت کی نا انصافی و کنجوسی پر بڑا غصہ آیا اور اس نے شہزادی کے حسن کی توہین
کا احساس کرتے ہوئے فوراً ہی اپنے جنات و مؤکلات کو حکم دیا کہ شہزادی کو جلد از
جلد بصد عزت و احترام اس کے محلِ خاص میں
منتقل کردیا جائے جہاں انہیں ان کے صحیح مقام و مرتبے کے مطابق جلد ہی ملکہ عالیہ
کے رتبے پر فائز کردیا جائیگا۔ کچھ ہی دیر
میں شہزادی جادوگر کے محل میں حاضر تھی اور جادو کے زیرِ اثر بے ہوش ہو چکی تھی۔ دوسری
طرف جب بادشاہ کو شہزادی کی پُر اسرار گمشدگی کی اطلاع ہوئی تو اس کے حواس بھی جاتے
رہے۔ کچھ ہی دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری مملکت میں پھیل گئی اور عوام
الناس میں ایک صفِ ماتم بچھ گئی۔ ہر شہری آبدیدہ و رنجور تھا آخر کو ایک شہزادی لا
پتہ ہوئی تھی کسی عام آدمی کی اولاد تھوڑی تھی جن کا ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے،
یہ تو قرنوں سے شاہوں کا حق ہے کہ ان کی خوشی میں ان کی رعایا بھی شامل ہوتی ہے۔ اگر
بادشاہ ،اس کی اولاد یا قریبی اقارب کو اولاد کی نعمت سے نوازا جائے یا ان کے ہاں
شادی خانہ آبادی کی کوئی تقریب ہو مملکت کے طول و عرض میں شادیانے بج اُٹھتے ہیں
اور اگر بادشاہ، اس کی اولاد یا کوئی اور قریبی عزیز بیمار ہوجائے یا کسی مشکل میں
گرفتار ہو جائے تو ہر طرف دعائے صحت مانگی
جانے لگتی ہے، صدقات دیئے جارہے ہوتے ہیں اور اگر خُدا نخواستہ بادشاہ سلامت یا ان
کا کوئی مقرب سلامت نہ رہے تو پوری قوم ان کے غم میں سوگوار ہوجاتی ہے۔
جب کچھ دیر بعد بادشاہ کے حواس
بحال ہوئے اور رعایا کے اوسان بھی کسی قدر سنبھلے تو شہزادی کی بازیابی کی فکر
لاحق ہوئی۔ وزیروں، مشیروں سے مشورے شروع ہوئے، کاہنِ اعظم کو طلب کیا گیا جس نے
اپنے عملیات کے زور پر بتایا کہ شہزادی کو جنوب کے مہا جادوگر نے اغوا کیا ہے اور
انہیں اپنی جنوبی طلسمی پہاڑیوں میں واقع محل میں قید کر لیا ہے۔
ایک بار پھر وزراء سے مشورے شروع
ہوئے، سپّہ سالار کو بلایا گیا اور اس نے فوراً اپنے بہترین سپاہیوں پر مشتمل
خصوصی دستے جنوب میں مہا جادوگر کی سرکوبی کے لئے روانہ کر دیئے۔
ادھر جنوبی پہاڑیوں میں جب شہزادی
کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک اجنبی جگہ پایا۔ جب کنیزوں کو معلوم ہوا کہ شہزادی
کو ہوش آگیا ہے تو انہیں نے اسے فوراً جادوگر کی خدمت میں پیش کردیا، جادوگر نے
اسے بہت عزت و تکریم دی اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسے اپنے دل کی رانی
بنا چکا اب اپنے محل کی ملکہ بنانا چاہتا ہے۔
شہزادی کے حسن سے تو آپ بخوبی
واقف ہیں، جادوگر بھی کچھ کم نہیں تھا۔ ایک سینکڑوں سال کا بوڑھا جس نے اپنا شباب
شیطان کی عبادت و ریاضت میں بسر کردیا تھا، چہرے پر ہر وقت پھٹکار برستی رہتی تھی،
انتہائی بھیانک و مکروہ۔ شہزادی گو کہ امورِ خارجہ کی ماہر تھی اور سفارت کاری و
سیاسیات کے آداب سے واقفیت رکھتی تھی لیکن از حد کوشش کے باوجود اپنا نازک سراپا
اس کریہہ الصورت بوڑھے کے حوالے کرنے پر راضی نہ ہوسکی، کچھ اسے یہ امید بھی تھی
کہ جلد ہی اس کے والدِ محترم اسے بازیاب کرالیں گے لہٰذا اس نے جادوگر کو ٹکا سا
جواب دے دیا۔ جادوگر نے بھی ضد پکڑلی کہ شہزادی کی اَنا کو کُچل کر رہےگا لہٰذا اس نے شہزادی کو تہہ خانے میں قید کردیا
تاوقتیکہ وہ اس سے شادی کے لئے راضی نہیں ہوجاتی۔
شہزادی کی گُمشدگی کی خبر دور
دراز کے مُمالک تک پھیل گئی تھی۔ بادشاہ کے بہترین سپاہی بھی جادوگر کی سرکوبی کی
کوشش میں اپنی جانیں گنوا چکے تھے۔ کچھ دیگر ممالک کے خصوصی فوجی دستوں کو بھی
ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایسے میں شدید مایوسی کے عالم میں عوام میں یہ
مُنادی کرادی گئی کہ جو کوئی بھی شہزادی کو بازیاب کرائے گا، اس کا نکاح شہزادی سے
کردیا جائےگا۔
پہلے ہی سینکڑوں دیوانے شہزادی کے
لئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، ہزاروں اور پروانے شمع پر قربان ہونے کو
تیار ہوگئے۔
یہ سب واقعات جب ایک اور ملک میں
پہنچے تو وہاں کے اکلوتے شہزادے نے جو خود بہت وجیہہ تھا (جیسے حسین ہونا ہر
شہزادی کا حق ہے ویسے ہی ہر شہزادہ بھی وجیہہ ضرورہوتا ہے) اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ اس
مُہم پر ضرور جائےگا۔ اس نے اپنے ملک کے کاہنِ اعظم کو طلب کیا۔ کاہن نے اسے بتایا
کہ جنوب کے مہا جادوگر نے جنوبی پہاڑیوں میں جگہ جگہ جادوئی پھندے لگائے ہوئے ہیں
اس لئے شہزادی کو بچانے کے لئے جانے والے سر فروش اپنے سَروں سے محروم ہو رہے ہیں۔
کاہن نے بتایا کہ مہا جادوگر نے اپنی جان
ایک طوطی میں قید کی ہوئی ہے جو اس کے تہہ خانے میں قید ہے، جبتک اس طوطی کی گردن
نہیں مروڑی جاتی مہا جادوگر پر کسی وار کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس نے مزید کہا کہ اگر شہزادہ خاص نشانیوں کے
حامل ایک سو ایک لوگوں کی بھینٹ چڑھائے تو وہ شہزادے کو پلک جھپکتے میں مہا جادوگر
کے تہہ خانے میں پہنچا سکتا ہے ۔ ایک دلرُبا نازنین کےلئے ایک سو ایک تو کیا کئی
لاکھ لوگوں کے خون کا نذرانہ بھی ایک سسَتے کا سودا تھا لہٰذا شہزادے نے کسی پس و
پیش کے بغیر فوراً ہی آمادگی ظاہر کردی اور قتلِ عام کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
ادھر مہا جادوگر نے شومئی قسمت اپنی جانِ جاں یعنی شہزادی کو اسی جادوئی تہہ
خانے میں قید کر رکھا تھاجہاں وہ طوطی بھی
موجود تھی جس میں جادوگر کی جان تھی، یہ غلطی مہا جادوگر کی بے جا خود اعتمادی کا
نتیجہ تھی یا شاید تقدیر نے اس سے آنکھیں پھیرتے ہوئے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا
تھا۔ اس تہہ خانے میں کچھ کنیزیں اور غلام تعینات تھے۔ جنہیں دور دراز مقامات سے
اغوا کر کے لایا گیا تھا۔ کنیزیں تو حسین و جمیل تھیں ہی غلام بھی بے حد وجیہہ تھے
لیکن سب غلاموں کی آنکھوں کے چراغ بُجھا دئیے گئے تھے تاکہ وہ مہا جادوگر کے خلاف
کوئی سازش برپا نہ کر سکیں۔ان اندھے
غلاموں میں سے ایک غلام نگرانِ اعلیٰ کے درجے پر فائز تھا، مردانہ وجاہت کا نادر
ترین شاہکار، از حد شجیع اور اپنے مالک کا بے انتہا وفا دار۔
اس کی تعیناتی خاص اس پنجرے پر
تھی جس میں طوطی قید تھی۔ یوں تو یہ اندھا غلام بے شمار اوصاف کا مالک اور انتہائی
نیک اور اچھا انسان تھا لیکن اس میں بھی ایک خامی تھی۔ یہ سُریلی آوازوں کا رسیا
تھا اور طوطی کی مدُھر آواز کا تو ایسا عاشقِ صادق تھا گویا اس کی جان بھی طوطی
میں ہو۔ ہر وقت طوطی کے آس پاس ہی رہتا کہ اُس کی آواز اِس کی سماعت میں رَس گھولتی رہے۔ لیکن جب سے
مہا جادوگر کی نئی جان یعنی شہزادی کو اِس تہہ خانے میں لایا گیا تھا اس نگرانِ ا علیٰ
کی تعیناتی اُس کے پنجرے پر کر دی گئی تھی۔گو کہ اندھا غلام اپنی جان سے دُوری کی
بناء پر بے انتہا مغموم تھا لیکن اس نے شہزادی کی خدمت و خاطر میں کوئی کمی نہ
رکھی۔ شہزادی جو پہلی نظر میں ہی اِس اندھے غلام کی وجاہت پر مُر مٹی تھی جب اِس
کے اخلاق و کردار کو قریب سے دیکھا تو ایک غلام کی بے دام غلام ہو بیٹھی۔اُس نے
سوچ لیا تھا کہ جب اس کے والد اسے آزاد کرالیں گے تو وہ اِس غلام کو ہی اپنا جیون
ساتھی بنائے گی اور اگر خُدا نخواستہ وہ آزاد نہیں ہو پائی تو ساری زندگی اس نگران کی زیرِ نگرانی قید رہ
لے گی۔ اسے یہ بھی خیال آیا تھا کہ وہ مکروہ جادوگر سے شادی کرلے اور اس جادو نگری
کی مہا رانی بن جائے بعد میں یہ غلام بھی اُس کی دلپشوری کے لئے موجود ہوگا لیکن
کچھ وہ جادوگر کی طلسمی طاقتوں سے خوفزدہ تھی اور کچھ اس کے نازک مزاج سے اُس کی
گھٹیا صورت کسی طور گوارہ نہیں ہو پارہی تھی۔
یہاں شہزادی اپنا دل ہار رہی تھی
تو وہاں اس کا غائبانہ عاشق ایک سو ایک لوگوں کو اپنی محبت پر وار رہا تھا۔ جب ایک
سو ایک ویں شخص کی بھی بَلی چڑھادی گئی تو شہزادے کے کاہن نے اسے ایک تعویذ پہننے
کو دیا اور کہا کہ اپنی آنکھیں بند کرلو اور جب میری آواز آنا بند ہوجائے تو
آنکھیں کھول لینا، اور ایک منتر پڑھنے لگا تھوڑی دیر بعد جب اس کی آواز آنا بند
ہوگئی تو شہزادے نے اپنی آنکھیں کھولیں اور خود کو جنوب کے مہا جادوگر کے جادوئی
تہہ خانے میں پایا۔ اس کے خوابوں کی شہزادی اس کے سامنے ہی پنجرے میں قید تھی۔ اس
نے جب شہزادی کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا، اس نے جو کچھ شہزادی کے بارے میں سُنا
تھا اور جو کچھ سوچا تھا وہ سب شہزادی کے حقیقی حسن کا عشرِ عشیر بھی نہیں
تھا۔شہزادہ شہزادی کے جلووں میں ایسا
کھویا کہ یہ بھی بُھول گیا کہ وہ اس وقت شیر کی کچھار میں کھڑا ہے، اندھے غلاموں
نے جب اجنبی کی بُو محسوس کی تو ان میں ایک ہڑبونگ مچ گئی اور شہزادہ ہوش میں آیا۔
اس نے جلدی سے اندھے غلاموں کا صفایا شروع کردیا اور شہزادی تک پہنچ گیا۔ اتفاقاً شہزادی کا محبوب، طوطی کا عاشق اندھا غلام اس وقت
کئی دن بعد اپنی جان کے سامنے حاضر تھا اور اس کی لن ترانیاں سننے میں مشغول تھا،
جب تقدیر اپنا فیصلہ صادر کردیتی ہے تو اسی طرح اتفاقات در اتفاقات واقع ہوتے ہیں
اور شکست جس کا مقدر کردی گئی ہو اس کی سب
منصوبہ بندی و پیش بینی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اس کا ہر مہرہ صحیح وقت پر غلط
مقام پر کھڑا نظر آتا ہے۔ اندھا غلام ہجر کی کئی لمبی کالی راتوں کے بعد وصل کے
سویرے سے محظوظ ہو رہا تھا لہٰذا اس کے کان طوطی کی آواز کے سوا کچھ بھی سننے سے
بہرے ہو گئے تھے۔ غلام کی اس مدہوشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہزادے نے تہہ خانے میں
موجود دیگر تمام غلاموں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے شہزادی کو پنجرے سے رہائی دلادی اور
شہزادی کے ہمراہ طوطی کے پنجرے کی طرف بڑھا۔ جب طوطی نے اجنبیوں کو دیکھا تو وہ
خاموش ہو گئی اور اس کی آواز کے سحر کے رکتے ہی اندھا غلام ہوش میں آگیا۔
وہ شہزادے کی راہ میں حائل ہو گیا
، آنکھوں سے محروم ہونے کے باوجود وہ شہزادے پر بھاری تھا اور جلد ہی اس نے شہزادے
کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا اور اسے زخمی کردیا۔ ان دونوں کی دُو بدُو لڑائی کے
دوران مہا جادوگر کو بھی تہہ خانے میں چل رہے اس ہنگامے کی خبر ہو چلی تھی اور وہ
بھی تہہ خانے میں آن پہنچا۔ اس دوران شہزادے نے اپنی تلوار شہزادی کو تھما دی تھی
۔ وہ جانتا تھا کہ اندھے غلام کے نچلے و متوسط طبقے والے دقیانوسی فرسودہ اصول اسے
صنفِ نازک پر وار کرنے کی ااجازت نہیں دینگے۔
مہا جادوگر نے جب شہزادی کے ہاتھ
میں تلوار دیکھی تو اس نے ایک طلسم پُھونکا اور اچانک ایک ہانڈی کہیں سے نمودار
ہوئی اور فضا میں تیرتی ہوئی شہزادی کی طرف بڑھنے لگی۔ شہزادی جانتی تھی کہ اب اس
کے پاس وقت بہت کم ہے، اگر اس سے پہلے کہ وہ طوطی تک پہنچے ہانڈی اس تک پہنچ گئی
تو وہ پتھر کی ہوجائیگی۔
کہانی اپنے اختتامی لمحات میں
داخل ہوگئی ہے۔ شہزادی عجیب مخمصے کا شکار ہے اور خود کوئی فیصلہ لینے سے قاصر ہے۔
اسے اپنی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی جان یعنی طوطی کی گردن مروڑنی ہے لیکن اس
کے لئے اسے اپنے محبوب کی نعش پر سے گذرنا ہوگا، اگر وہ اپنے محبوب کو کوئی تکلیف
نہ دینے کا فیصلہ کرلے تو اس صورت میں وہ خُوبرو شہزادے کے ساتھ اپنے وطن واپس
جانے کا موقع گنوادے گی اور ہمیشہ کے لئے پتھر میں تبدیل ہوجائےگی۔شہزادی کو اس
بات کی بھی فکر لاحق ہے کہ اس شہزادے کے احسان کا کیا بدلہ دیا جائے جو اتنی دور
اپنی جان پر کھیلتے ہوئے اسےلینے کے لئے آیا ہے، جس نے شہزادی کے لئے سینکڑوں
لوگوں کا خون بہایا ہے۔ گو کہ شہزادی کا تعلق طبقاء امراء سے ہے جہاں جواہرات کی
قیمت جذبات سے زیادہ مانی جاتی ہے، وہ کسی متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی
کوئی گھریلو دوشیزہ یا انہی طبقات سے تعلق رکھنے والی کوئی بد کردار طوائف نہیں
تھی جو عموماً جذبات کو جواہرات پر فوقیت دے دیتی ہیں۔ لیکن شاید جنوب کی پہاڑیوں
کا جادو تھا یا اندھے غلام کی وجاہت کا سحر کہ شہزادی کا دل بھی دھڑک رہا تھا۔
اس لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال
میں سب نگاہیں میری طرف مرکوز ہیں۔ میں کہ چاہوں تو کہانی کو کسی خوبصورت موڑ
موڑدوں اور اس کا اختتام بھی روایتی کہانیوں کی طرح "ہنسی خوشی رہنے
لگے" پر کروں اور چاہوں تو کہانی کے
انجام کو کسی دردناک المیے سے دوچار کردوں۔ جیسے حقیقی دنیا میں تقدیر عام عوام کی
زندگیوں کے ساتھ کھیلتی ہے ویسے ہی تاریخ کے سب سے طاقتور ترین ہتھیار یعنی قلم نے
مجھے بھی لکھاری کی حیثیت سے دو ممالک کے عوام و خواص، شاہی خانوادوں، جادوگروں،
کنیزوں اور غلاموں کی تقدیر سے شغل کرنے کی قدرت دے دی ہے لیکن میں یہ طاقت اپنے
قاری کو دَان کرتا ہوں اور اس کہانی کا خاتمہ آپ کے تخیّل پر چھوڑتا ہوں۔اب آپ کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے کہ آپ چاہیں تو
اس کہانی کو ایک ایسا مثالی اختتام دیں جو
آپ کی اپنی زندگیوں میں مفقود ہے اور ایک بار پھر خواص کی خوشیوں میں خوش ہو جائیں
یا پھر آپ چاہیں تو اذیّت کوشی کا راستہ اختیار کریں اور جو مصائب و آلام آپ کا
روز مرہ ہیں ان کا کہانی کے خاص کرداروں کو بھی چَکھائیں۔


best kahani
ReplyDeleteجادوئی جنگلڈھا